skip navigation

This website uses CSS layout which is not compatible with your current browser. Please consider using a more up to date browser to view this site.

Man with cloth [Photo by Steve Evans, CC Attribution license]

مجھے ایم.اس. کی بیماری کیوں ہوتی؟

"جب تک مجھ میں اس مرض کی تشخیص نہیں ہو گئی میں اسے سے آگاہی نہیں تھا کہ ایم.اس. سے متعلق لوگ کس قدر ناواقف ہیں۔ میری ماں چیختی چلاّتی تھی کیونکہ وہ کہتی تھی کہ پہیہ کرسی میں ہی تمہارا خاتمہ ہوجائے گا اور تم مر جاؤگے۔ مجھے یہ سمجھانا پڑتا تھا کہ پانچ افراد میں سے صرف ایک کو پہیہ کرسی کی ضرورت پڑتی ہے اور ایم.اس. سے متاثر لوگوں میں زندہ رہنے کا امکان عام لوگوں کی طرح ہی ہوتاہے۔"

ایم.اس. کا ہو جانا آپ کی غلطی نہیں ہے اور اس کا کوئی تعلق طرز زندگی یا رویے سے نہیں ہے۔ اگر چہ یقین سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ لوگوں کا ایم.اس. کا مرض کیوں ہوتا ہے۔ تحقیق سے پتہ ملا ہے کہ یہ مرض جنسیاتی اور ماحولیاتی اسباب کے مِلے جُلے اثرات سے ہوتاہے۔  

یوکے میں تقریباً 85,000 افراد میں ایم.اس. سے متاثر ہیں یعنی کہ ہر 800-1000 افراد میں ایک فرد - ایم.اس.متاثر افراد میں سے زیادہ تر میں اس مرض کی تشخیص 20 اور 40 سال کی عمر کے درمیان ہو جاتی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں عورتوں میں اس سے متاثر افراد کی تعداد دوگنی ہوتی ہے۔  

ملٹپل سلیروسس آپ کو لگی نہیں ہے بلکہ یہ آپ کو ہوئی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھئے کہ یہ بیماری اس وقت ہوتی رہے دماغ اور ریڑوں کی ہڈی کے رگوں کے اطراف موجود حفاظتی مادے تشکیل کرتا ہے)۔ جب ماٹلین خراب یا تلف ہوجا تا ہے تو آپ کے دماغ سے جسم کو پہچنے والے اشارات کی رفتار میں سستی آجاتی ہے اور وہ اپنے مقررہ مقام تک پہنچ نہیں پاتے جس سے ایم.اس. کی علامات پیدا ہوتی ہیں  

ایم.اس. خود مدافعتی کیفیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا مدافعتی نظام ہی آپ کے جسم پر حملہ آور ہوتا ہے۔ عموماً مدافعتی نظام تعدیوں سے لڑنے میں مددگار ہوتا ہے لیکن ایم.اس. میں یہ غلطی سے خود آپ کے جسم کے نسیجوں پر اور خصوصاً رگوں کے ریشوں پر اجنبی سمجھ کر حملہ کر دیتا ہے۔  

مائلین کے اتلاف سے رگوں کے ریشے جزوی یا کلی طور پر غیر محفوظ ہو جاتے ہیں اور ان میں ایسے دھبے پڑ جاتے ہیں جنھیں شگاف یا چٹخن کہتے ہیں۔ حفاظت کی یہ کمی رگوں کے ریشوں کے سہارے سفر کرنے وال پیغامات کی راہ میں رخنہ ڈالتی ہے۔ پیغامات سست پڑ سکتے ہیں، میخ ہو سکتے ہیں، ایک رگ کے ریشے سے دوسرے ریشے تک ان کم منتقلی شارٹ سرکٹنگ) ہو سکتی ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی منزل تک قطعاً نہ پہنچ پائیں۔  

مائلین کے اتلاف کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حقیقی رگوں ریشے ہی خراب ہوجائیں۔ یہ رگوں کا اتلاف ہی ہے جو معدوں کے ہوں ہونے کا سبب بنتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔  

چونکہ مرکزی عصبی نظام جسم کے تمام افعال کو مربوط رکھتی ہے۔ ایم.اس. میں کئی مختلف نوعیتوں کی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ ظاہر ہونے والے مخصوص علامات کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ آپ کے مرکزی عصبی نظام کا کون سا حصہ متاثر ہے اور یہ کہ تلف شدہ رگ کا کیا کام ہے۔